اتوار 25 جنوری 2026 - 07:29
بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے!

حوزہ/تاریخِ انسانی کا ایک اٹل اصول ہے کہ باطل وقتی طور پر شور مچا سکتا ہے، مگر وہ اپنی فطرت میں کمزور، کھوکھلا اور انجام کار شکست خوردہ ہوتا ہے۔ قرآن کا یہ اعلان محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ تاریخ کا زندہ قانون ہے۔ یہی قانون ہمیں عصرِ حاضر میں جمہوری اسلامی ایران کی جدوجہد میں پوری آب و تاب کے ساتھ کار فرما نظر آتا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا. بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل، آیت 81

تاریخِ انسانی کا ایک اٹل اصول ہے کہ باطل وقتی طور پر شور مچا سکتا ہے، مگر وہ اپنی فطرت میں کمزور، کھوکھلا اور انجام کار شکست خوردہ ہوتا ہے۔ قرآن کا یہ اعلان محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ تاریخ کا زندہ قانون ہے۔ یہی قانون ہمیں عصرِ حاضر میں جمہوری اسلامی ایران کی جدوجہد میں پوری آب و تاب کے ساتھ کار فرما نظر آتا ہے۔

تاریخ کے اوراق اگر غور سے الٹے جائیں تو ایک لطیف مگر اٹل حقیقت ہر صفحے پر جھلکتی دکھائی دیتی ہے: باطل ہمیشہ شور مچاتا ہے اور حق خاموشی کے ساتھ اپنا راستہ بناتا ہے۔ شور وقتی ہوتا ہے، سکون دائمی۔ فرعون کے دربار میں نعرے تھے، اقتدار کا جاہ و جلال تھا، مگر موسیٰؑ کے عصا میں وہ سکونِ یقین تھا جس نے نیل کے غرور کو بھی نگل لیا۔ نمرود کے ایوانوں میں آگ دہک رہی تھی، مگر ابراہیمؑ کے قلب میں جو اطمینان تھا، وہی آگ کو گلزار بنا گیا۔

یہی قاعدہ بعد کی تاریخ میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ کارفرما رہا۔ بنو امیہ نے اقتدار کو مذہبی تقدس کا لبادہ اوڑھا کر ظلم کو استحکام دینے کی کوشش کی۔ منبر، تلوار اور خزانہ—تینوں ان کے پاس تھے، مگر حق کا نور دلوں میں تھا، ایوانوں میں نہیں؛ اس لیے ان کی شان و شوکت بھی تاریخ کی گرد میں دب کر رہ گئی۔

پھر بنی عباس کا دور آیا۔ ابتدا میں مظلومیت کا نعرہ، اہلِ بیتؑ سے قربت کا دعویٰ، اور عدل و علم کے وعدے—یہ سب کچھ تھا۔ مگر جب اقتدار مستحکم ہوا تو وہی دربار، وہی سازشیں، وہی جبر، صرف لباس بدل گیا۔ علم و تہذیب کی سرپرستی کے باوجود، جب اقتدار کا مرکز حق کے بجائے مصلحت بن جائے تو زوال خاموشی سے قدم رکھ دیتا ہے۔ بنی عباس کا انجام بھی اسی تاریخی قاعدے کی تصدیق بن گیا کہ طاقت اگر اصول سے کٹ جائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے، سہارا نہیں۔

اسی تسلسل میں جدید دور کا استعمار آیا—چمکتی اصطلاحات، ترقی کے نعرے، اور انسانیت کے خوش نما دعوے۔ مگر پسِ پردہ وہی پرانا کھیل: لوٹ، غلامی اور فکری تسلط۔ جب ایران نے اس کھیل سے انکار کیا تو حیرت نہیں کہ اس پر یلغاریں شروع ہو گئیں۔ یہ یلغار اس لیے نہیں تھی کہ ایران کمزور تھا، بلکہ اس لیے کہ اس نے وہ جرأت کی جو تاریخ میں کم قومیں کر پاتی ہیں: غلامی سے انکار، فکری یلغار سے انکار، اور استعماری نظامِ اقدار کو مقدر ماننے سے انکار۔

باطل کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہجوم چاہتا ہے، شور چاہتا ہے اور اپنی کمزوری کو طاقت کے غلغلوں میں چھپاتا ہے۔ حق کی شان یہ ہے کہ وہ خاموش رہ کر دلوں میں اترتا ہے، اور جب اٹھتا ہے تو تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لیے ہر دور کا فرعون شور میں گم ہو جاتا ہے، اور ہر دور کا موسیٰؑ سکون کے ساتھ زندہ رہتا ہے

انقلابِ اسلامی؛ باطل کے ایوانوں میں زلزلہ

1979ء کا اسلامی انقلاب کوئی وقتی سیاسی ہیجان نہ تھا، نہ ہی یہ کسی اچانک اُٹھنے والی عوامی بغاوت کا نام تھا؛ بلکہ یہ صدیوں کے دبے ہوئے شعور، مسلسل قربانیوں، علما کی خاموش محنت، اور دینی غیرت کے اس ذخیرے کا ظہور تھا جو وقت کے سینے میں پک کر ایک دن پھٹ پڑتا ہے۔ یہ انقلاب تاریخ کی اس گہری دھار سے نکلا جس میں کربلا کی صدا بھی شامل تھی اور نجف و قم کی خاموش درسگاہوں کی آہیں بھی۔

امام خمینی نے اس انقلاب کی قیادت نہ توپ و تفنگ کے بل پر کی، نہ عالمی طاقتوں کی تائید کے سہارے، بلکہ اس نایاب قوت کے ساتھ کی جو تاریخ میں کم ہی نصیب ہوتی ہے: ایمان کی قوت، بصیرت کی روشنی اور عوامی شعور کا اعتماد۔ وہ جانتے تھے کہ جو انقلاب بیرونی سہاروں پر کھڑا ہو، وہ پہلا دھکا بھی سہہ نہیں پاتا، اور جو انقلاب دلوں میں اتر جائے، اسے کوئی طاقت جڑ سے نہیں اکھاڑ سکتی۔

یہی وجہ تھی کہ انقلاب کے فوراً بعد ہی باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ عالمی نظام، جو صدیوں سے مسلم دنیا کو آزمائش گاہ اور منڈی سمجھتا آیا تھا، اچانک ایک ایسے ماڈل سے دوچار ہوا جو نہ اس کی لغت میں تھا، نہ اس کے منصوبوں میں۔ ایک ایسا نظام جو کہتا تھا: ہم خود فیصلہ کریں گے، ہم خود سوچیں گے اور ہم اپنی تقدیر خود لکھیں گے۔

یہی وہ موڑ تھا جب دشمنی عارضی نہ رہی، بلکہ مستقل حکمتِ عملی میں ڈھل گئی۔

پہلے مرحلے میں پابندیاں لگیں، تاکہ قوم کو معاشی دباؤ میں توڑا جائے۔

اس کے بعد میڈیا وار شروع ہوئی، تاکہ حقائق کو مسخ کر کے شکوک و شبہات پھیلائے جائیں۔

اور جب یہ سب ناکام ہوا تو داخلی فتنوں کو ہوا دی گئی، تاکہ انقلاب اپنے ہی ہاتھوں زخمی ہو جائے۔ ملک میں داخلی سازشیں ہوئیں، بم دھماکے کروائے دہشتگردانہ کاروایاں کروائیں تاکہ نظام کو اندر سے کمزور کیا جائے۔

لیکن تاریخ نے ایک بار پھر اپنا پرانا سبق دہرایا: جو تحریکیں مفاد سے جنم لیتی ہیں، وہ دباؤ میں بکھر جاتی ہیں اور جو تحریکیں عقیدے سے اٹھتی ہیں، وہ دباؤ میں نکھر جاتی ہیں۔

یہ قیادت دراصل اسی مکتبِ فکر کی توسیع تھی جس کی بنیاد امام خمینی نے رکھی تھی۔ امام خمینیؒ نے انقلاب کے آغاز میں ہی یہ اصول واضح کر دیا تھا کہ اگر قوم اپنے آپ کو پہچان لے، خدا پر بھروسہ کرے، اور ظالم کے سامنے جھکنے سے انکار کر دے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔

انہوں نے انقلاب کو محض حکومت کی تبدیلی نہیں بنایا، بلکہ فکر کی تبدیلی بنا دیا—اور یہی تبدیلی بعد کی تمام آزمائشوں میں ایران کا اصل سرمایہ بنی۔

امام خمینیؒ نے جو چراغ جلایا تھا، آیت اللہ خامنہ ای نے اسے طوفانوں میں بجھنے نہیں دیا۔ ایک نے قوم کو اٹھنا سکھایا، دوسرے نے اسے قائم رہنا سکھایا۔ ایک نے غلامی کے انکار کا شعور دیا، دوسرے نے اس شعور کو عالمی دباؤ کے باوجود محفوظ رکھا۔ یہ قیادت تسلسل کی قیادت تھی—نہ شخصیت پرستی، نہ وقتی سیاست، بلکہ ایک مستقل فکری راستہ۔

اسی قیادت نے قوم کو یہ بنیادی سبق دیا کہ اصل طاقت اسلحے کے انبار میں نہیں، بلکہ ایمان میں ہے جو خوف کو توڑ دیتا ہے، شعور میں ہے جو فریب کو پہچان لیتا ہے اور استقلال میں ہے جو مشکلات کے باوجود سر جھکنے نہیں دیتا۔

یوں جب باطل شور مچاتا رہا، دھمکیاں دیتا رہا، اور محاذ بدل بدل کر حملہ آور ہوتا رہا، تو حق خاموشی، وقار اور یقین کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ یہی وہ قیادت ہے جو قوموں کو وقتی فتح نہیں، تاریخی استقامت عطا کرتی ہے—اور یہی وہ بصیرت ہے جو ہر دور میں اس قرآنی وعدے کی عملی تفسیر بن جاتی ہے: اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

دشمن کیوں ناکام ہوا؟ شکست کے اسباب کا تاریخی تجزیہ

دشمن کی ناکامی کوئی حادثہ نہیں تھی، نہ ہی یہ محض حالات کا اتفاق تھی؛ یہ دراصل غلط فہمیوں، سطحی تجزیوں اور فکری نارسائی کا منطقی انجام تھی۔ باطل نے اپنی پوری قوت، منصوبہ بندی اور وسائل کے باوجود وہی غلطی دہرائی جو تاریخ میں ہر ظالم دہراتا آیا ہے—اس نے قوموں کو اعداد و شمار میں ناپا، مگر روح کو نظرانداز کر دیا۔

اولاً: دشمن ایران کو محض ایک ریاست سمجھتا رہا—سرحدوں، آبادی، معیشت اور عسکری طاقت کا ایک مجموعہ۔ وہ یہ نہ سمجھ سکا کہ ایران دراصل ایک نظریہ ہے؛ ایسا نظریہ جو ایمان، خودداری اور مزاحمت سے تشکیل پاتا ہے۔ ریاستیں دباؤ سے بدل دی جاتی ہیں، مگر نظریات دباؤ میں مزید واضح ہو جاتے ہیں۔ جب حملہ ریاست پر کیا گیا تو نظریہ بیدار ہو گیا—اور یہی دشمن کی پہلی شکست تھی۔

ثانیاً: دشمن کا خیال تھا کہ مسلسل دباؤ قوم کو تھکا دے گا، کہ معاشی مشکلات، جنگی زخم اور نفسیاتی یلغار عوام کو اپنے ہی انتخاب سے بدظن کر دے گی۔ مگر اس نے قوم کی تربیت کو غلط پڑھا۔ ایرانی قوم نے دباؤ کو اذیت نہیں، تربیت سمجھا۔ مشکلات نے سہولت پسندی نہیں، خود انحصاری سکھائی؛ محاصرے نے مایوسی نہیں، تخلیقی صلاحیت پیدا کی؛ اور آزمائش نے کمزوری نہیں، کردار پیدا کیا۔ یوں جو دباؤ توڑنے آیا تھا، وہ قوم کو تراشنے کا ذریعہ بن گیا۔

ثالثاً: دشمن نے قیادت کو تنہا کرنے کی کوشش کی—اس امید پر کہ اگر رہنما کو عوام سے کاٹ دیا جائے تو راستہ خود بخود ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہاں بھی وہ بنیادی حقیقت سے ناواقف رہا۔ یہ قیادت اقتدار کے ایوانوں میں محدود نہیں تھی، بلکہ عوام کے دلوں میں بستی تھی۔ یہ رشتہ مفاد کا نہیں، اعتماد کا تھا؛ نعروں کا نہیں، قربانی کا تھا۔ قیادت نے عوام کو حکم نہیں دیا، راستہ دکھایا—اور عوام نے اس راستے کو اپنی شناخت بنا لیا۔

ان تین بنیادی غلط فہمیوں کے ساتھ دشمن نے ایک اور بڑی بھول بھی کی: وہ یہ سمجھ بیٹھا کہ وقت اس کے حق میں ہے۔

مگر تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ وقت ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا ہے جو اصول پر کھڑا ہو، نہ کہ اس کا جو طاقت کے سہارے جیا کرتا ہے۔

یوں دشمن کے تمام منصوبے، دباؤ، دھمکیاں اور یلغاریں ایک ایک کر کے بے اثر ہو گئیں۔ شور بہت ہوا، مگر نتیجہ خاموش شکست نکلا۔ اور تاریخ نے ایک بار پھر وہی فیصلہ لکھا جو ہر دور میں لکھا جاتا ہے: باطل اپنی ہی غلط فہمیوں کے بوجھ تلے ڈھیر ہو جاتا ہے، اور حق، استقامت کے ساتھ، آگے بڑھتا رہتا ہے۔

انجام؛ باطل کی پسپائی

آج منظر نامہ صاف ہے، اگر آنکھ تعصب کے غبار سے آزاد ہو۔ دشمن کی زبان میں اب بھی دھمکیاں ہیں، مگر قدموں میں تذبذب صاف دکھائی دیتا ہے۔ بیانات بلند آہنگ ہیں، مگر فیصلے خوفزدہ؛ لہجے سخت ہیں، مگر راستے غیر یقینی۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں طاقت کا شور باقی رہتا ہے، مگر اعتماد ختم ہو چکا ہوتا ہے۔

آج جمہوری اسلامی ایران کے خلاف محاذ آرائی تو موجود ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر محاذ پر باطل دفاعی پوزیشن میں کھڑا ہے۔

کبھی پابندیوں کا ہتھیار آزمایا جاتا ہے، مگر ان کے اثرات خود نافذ کرنے والوں کی معیشت پر لوٹ آتے ہیں۔

لیکن ہر محاذ پر جواب ایک ہی تھا: خود کفالت، علمی پیش رفت اور ثقافتی استقامت۔

جس قوم کو بھوکا رکھ کر گھٹنوں پر لانے کا خواب دیکھا گیا، اسی نے اپنے سائنسی مراکز قائم کیے، دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کی، اور جدید تحقیق میں اپنی پہچان بنائی۔

جس قوم کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی، اسی نے اپنی شناخت کو نظریے کی بنیاد پر مستحکم کیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پابندیاں اپنے مقصد کے الٹ نتیجہ دینے لگیں۔

جو دباؤ توڑنے کے لیے تھا، وہ جوڑنے لگا؛ جو رکاوٹ روکنے کے لیے تھی، وہ رفتار بن گئی اور جو فکری یلغار کمزور کرنے آئی تھی، وہ بصیرت میں اضافہ کر گئی۔

یوں چالیس سال سے زیادہ عرصے پر محیط یہ پابندیوں کی جنگ بھی اسی اٹل قانون کے سامنے ہار گئی جسے قرآن نے صدیوں پہلے بیان کر دیا تھا:“اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا”

باطل چاہے کتنی ہی شکلیں بدل لے، انجام اس کا ایک ہی ہوتا ہے—اور حق، ہر آزمائش کے بعد، پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرتا ہے۔

پابندیاں، فکری دباؤ اور اہلِ علم کا قتل — ایک ہی جنگ کے مختلف محاذ

پابندیوں اور فکری دباؤ کے ساتھ ساتھ دشمن ایک اور حد تک جا پہنچا—اہلِ علم اور سائنس دانوں کو نشانہ بنانے کی حد تک۔ یہ کوئی جذباتی یا وقتی ردِعمل نہ تھا، بلکہ ایک سوچا سمجھا، سرد اور منظم منصوبہ تھا۔ جب معاشی پابندیاں قوم کو توڑنے میں ناکام ہو گئیں، جب فکری یلغار یقین کو متزلزل نہ کر سکی، تو فیصلہ ہوا کہ علم کے مراکز کو خوف کے ذریعے خاموش کیا جائے۔

پیغام سادہ تھا: اگر نظریہ نہیں جھکتا تو دماغ توڑ دو؛ اگر قوم نہیں تھکتی تو اس کے رہنماؤں اور محققین کو ختم کر دو۔

اسی حکمتِ عملی کے تحت امریکہ، اسرائیل اور ان کے ہم نوا استعماری مراکز نے یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ جمہوری اسلامی ایران کی اصل طاقت اس کا تیل یا جغرافیہ نہیں، بلکہ اس کے سائنس دان، مفکر اور اہلِ علم ہیں۔ چنانچہ ایران کی ترقی اور پیش رفت کو روکنے کے لیے چُن چُن کر اہلِ علم کو نشانہ بنایا گیا—کوئی لیبارٹری سے واپسی پر، کوئی جامعہ کے دروازے پر، کوئی اپنے بچوں کی آنکھوں کے سامنے۔ یہ قتل افراد کے نہیں تھے، علم کے سفر کو روکنے کی کوشش تھے۔

اسی کے ساتھ ایک خاموش مگر کاری محاذ بھی پوری شدت سے کھولا گیا: نفسیاتی اور تہذیبی دباؤ۔ روزمرہ زندگی کو مشکل بنا کر اضطراب پیدا کیا گیا، اور پھر اسی اضطراب کو دلیل بنا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ مسئلہ بیرونی یلغار نہیں، بلکہ مزاحمت کا راستہ ہے۔

استقلال کو تنہائی، مزاحمت کو ہٹ دھرمی، دینی تشخص کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ اور قربانی کو جذباتیت کہہ کر پیش کیا گیا، تاکہ قوم خود اپنے انتخاب پر شرمندہ ہو جائے اور وہ کام کر دے جو دشمن میدانِ جنگ میں نہ کر سکا۔

مگر یہ وہ قوم تھی جو پیغام کو الٹ پڑھتی ہے۔ اہلِ علم کی شہادت خوف کی علامت نہ بنی، عزم کی علامت بن گئی۔ ہر ایک کے بعد درجنوں نئے ذہن آگے بڑھے؛ تحقیق رکی نہیں، پھیلی۔ فکری دباؤ نے تقلید پیدا نہیں کی، تجزیہ کو جنم دیا۔ نوجوانوں نے سوال اٹھائے، مگر شناخت کی نفی کے لیے نہیں—اس کی گہرائی کے لیے۔

یوں پابندیاں جسم پر تھیں، فکری دباؤ ذہن پر، اور دہشت علم کے دروازے پر—لیکن جواب روح کی مضبوطی سے آیا۔ قوم نے سمجھ لیا کہ اصل جنگ روٹی سے نہیں، ارادے سے ہے؛ اصل مقابلہ سہولت کا نہیں، تشخص کا ہے؛ اور اصل فتح وقتی آسائش نہیں، وقار کے ساتھ جینے کا نام ہے۔

اسی لیے یہ تمام محاذ—پابندیاں، فکری یلغار اور اہلِ علم کا قتل—آخرکار ایک ہی انجام سے دوچار ہوئے۔ دباؤ بڑھا، مگر یقین نہ ٹوٹا؛ شور مچا، مگر سکون باقی رہا؛ اور تاریخ نے ایک بار پھر گواہی دی: اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا.

قیادت کی بصیرت — طوفان میں چراغ

ان تمام ہنگامہ خیز مراحل میں، جب جنگ، پابندیاں، فکری یلغار اور خفیہ سازشیں بیک وقت قوم پر مسلط تھیں، آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت ایک ایسے مستقل ستون کی طرح کھڑی رہی جو طوفان میں چراغ بن جائے—خود جلتا ہے، مگر راستہ روشن رکھتا ہے۔ یہ قیادت نہ وقتی جوش کی اسیر تھی، نہ جذباتی نعروں کی محتاج، بلکہ گہری حکمت، دور رس بصیرت اور پختہ اعتماد سے عبارت تھی۔

یہی بصیرت تھی جس نے قوم کو سکھایا کہ ہر اشتعال کا جواب شور نہیں ہوتا اور ہر حملے کا ردِعمل فوری نہیں دیا جاتا۔

یہاں جذباتی نعروں کے بجائے حکمت کو ترجیح دی گئی، تاکہ دشمن کو وہی میدان نہ دیا جائے جس پر وہ مہارت رکھتا ہے۔

یہاں وقتی ردِعمل کے بجائے طویل المدت منصوبہ بندی کو اختیار کیا گیا، تاکہ تاریخ کے دھارے میں فیصلہ کن مقام حاصل کیا جا سکے۔

اور یہاں خوف کے بجائے اعتماد کو فروغ دیا گیا—اعتماد خدا پر، اعتماد قوم پر، اور اعتماد اس راستے پر جو استقلال کی طرف جاتا ہے۔

اسلامی انقلاب نے ہر آزمائش کو اپنے لیے تربیت گاہ بنا لیا۔ پابندیاں خود کفالت کا سبق بن گئیں، سازشیں بصیرت میں اضافہ کر گئیں، اور دشمنی نے قوم کو مزید یکجا کر دیا۔ یوں باطل کے ایوانوں میں پڑنے والا زلزلہ وقتی نہ رہا، بلکہ ایک مستقل حقیقت بن گیا—ایسی حقیقت جس کی گونج آج بھی عالمی نظام کی دیواروں میں سنائی دیتی ہے۔

جنگِ مسلط — آٹھ سالہ امتحان

ایران پر مسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ کو اگر محض ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ سرحدی تصادم سمجھا جائے تو یہ تاریخ کی بدترین سادہ لوحی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ جمہوری اسلامی ایران کے خلاف عالمی باطل کی ایک منظم، اجتماعی اور ہمہ جہتی یلغار تھی—ایسی یلغار جس میں اسلحہ بھی تھا، سرمایہ بھی، سفارت کاری بھی، اور خاموش عالمی تائید بھی۔ محاذ پر ایک چہرہ تھا، مگر پسِ پردہ کئی ہاتھ، کئی دماغ اور کئی مفادات سرگرم تھے۔

اس جنگ کا مقصد واضح اور بے رحم تھا

• انقلاب کو کچل دینا تاکہ اسلامی بیداری کی یہ مثال آغاز ہی میں دفن ہو جائے۔

• عوام کو مایوس کر دینا تاکہ وہ اپنے انتخاب پر خود ہی نادم ہو جائیں۔

• نظام کو اندر سے توڑ دینا تاکہ بیرونی حملے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔

یہ جنگ دراصل گولہ و بارود سے زیادہ حوصلوں کی جنگ تھی۔ دشمن سمجھتا تھا کہ ایک نئی، انقلابی ریاست زیادہ دیر دباؤ نہیں جھیل سکے گی؛ کہ چند ماہ کی بمباری، شہروں کی تباہی، نوجوانوں کے جنازے، اور معاشی گھٹن قوم کو گھٹنوں پر لے آئے گی۔ مگر وہ ایک بنیادی حقیقت سے ناواقف تھا: یہ قوم حساب سے نہیں، عقیدے سے لڑ رہی تھی۔

تاریخ نے پھر وہ منظر دیکھا جو ہمیشہ حق کے حصے میں آتا ہے۔

شہادتیں ہوئیں، مگر ماتم نہیں بنا؛ لاشیں اٹھیں، مگر حوصلے نہیں گرے؛ شہر اجڑے، مگر ارادے آباد رہے۔

ماں نے بیٹے کو رخصت کیا تو آنکھ نم تھی، مگر لہجہ پُرعزم۔ باپ نے جوان کی لاش دیکھی تو دل زخمی تھا، مگر زبان شکوہ سے خالی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں جنگ ایک فوجی معرکہ نہیں رہی، بلکہ قوم کی روح کا امتحان بن گئی۔

اسی آٹھ سالہ آزمائش میں انقلاب پختہ ہوا، قیادت آزمائی گئی، اور عوام نے اپنے انتخاب پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔ دشمن کے نزدیک یہ جنگ ایران کو توڑنے کا منصوبہ تھی، مگر تاریخ نے لکھا: یہ جنگ ایران کو جوڑنے کا ذریعہ بن گئی۔

یہی وہ وقت تھا جہاں قرآن کا اعلان محض تلاوت کی حد تک محدود نہ رہا:“اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا”

باطل، اپنی پوری قوت، عالمی پشت پناہی اور مسلسل یلغار کے باوجود، تھک گیا—اور حق، زخمی ہونے کے باوجود، کھڑا رہا۔

یوں آٹھ سالہ جنگ ایران کے لیے شکست کا باب نہیں بنی، بلکہ ایک ایسی سند بن گئی جس پر تاریخ نے خود دستخط کیے: جو قوم حق پر جم جائے، اسے نہ جنگ ہرا سکتی ہے، نہ محاصرہ، اور نہ ہی عالمی باطل کا اتحاد۔

پابندیاں، سازشیں اور فکری جنگ — چار دہائیوں کا مسلسل محاذ

جنگِ مسلط کے اختتام کے ساتھ ہی دشمن نے یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ گولہ و بارود سے ایران کو نہیں توڑا جا سکتا۔ چنانچہ حربہ بدلا گیا۔ اب توپوں کی جگہ قوانین آئے، میزائلوں کی جگہ پابندیوں کے کاغذ، اور محاذِ جنگ کی جگہ میڈیا اسکرینیں۔ یوں ایران کے خلاف ایک ایسی جنگ کا آغاز ہوا جو خاموش تھی، مگر مسلسل؛ غیر اعلانیہ تھی، مگر ہمہ گیر۔

گزشتہ چالیس برس سے زیادہ عرصے پر پھیلی یہ پابندیاں محض معاشی دباؤ نہ تھیں، بلکہ تاریخ کی سخت ترین اور بے مثال پابندیوں میں شمار ہوتی ہیں—ایسی پابندیاں جن میں خوراک، ادویات، بینکاری، تیل، ٹیکنالوجی، حتیٰ کہ سائنسی تبادلے تک کو نشانہ بنایا گیا۔ مقصد صاف تھا:

قوم کو معاشی گھٹن میں مبتلا کر کے اسے اپنے ہی نظام سے بدظن کر دینا۔

اسی تسلسل میں سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ نوجوان سائنس دانوں پر قدغنیں، تعلیمی اداروں پر دباؤ، اور جدید تحقیق تک رسائی کو جرم بنا دیا گیا—تاکہ ایک زندہ قوم کو فکری بانجھ پن میں مبتلا کر دیا جائے۔ مگر تاریخ نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنایا:

جس قوم کو علم سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے، وہ علم ہی کو اپنا ہتھیار بنا لیتی ہے۔

پھر آیا میڈیا وار کا مرحلہ—جہاں بم نہیں گرتے، بلکہ بیانیے ٹوٹتے ہیں۔ عالمی میڈیا نے کردار کشی کو خبر، افواہ کو تجزیہ، اور بہتان کو آزادیِ اظہار کا نام دیا۔ ایران کو خوف، جبر اور تنہائی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا، تاکہ اس کے عوام خود کو دنیا سے کٹا ہوا محسوس کریں اور نوجوان نسل اپنے تشخص پر سوال اٹھانے لگے۔

اسی میڈیا یلغار کے ساتھ نوجوانوں کے اذہان میں شکوک کی کاشت کی گئی۔

ایمان کو قدامت، مزاحمت کو جنون، اور خود داری کو تنہائی بنا کر دکھایا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اگلی نسل وہ کام کر دے جو دشمن میدانِ جنگ میں نہ کر سکا—یعنی اندر سے انکار۔

کبھی میڈیا کے ذریعے خوف پیدا کرنے کی کوشش ہوتی ہے، مگر بیانیہ خود تضادات کا شکار ہو جاتا ہے۔

کبھی عسکری دھمکی دی جاتی ہے، مگر عملی قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار حساب لگانا پڑتا ہے۔

یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ باطل اب حملہ آور نہیں رہا، بلکہ اپنے وجود کا دفاع کر رہا ہے۔ اور یہی وہ مرحلہ ہے جسے تاریخ ہمیشہ زوال کی تمہید کہتی ہے۔

یہی تو قرآن کا وعدہ ہے—کوئی شاعرانہ جملہ نہیں، کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ تاریخ کا مستقل قانون: اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا. بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔

جمہوری اسلامی ایران کی پوری تاریخ دراصل اسی قرآنی اعلان کی عملی تفسیر ہے۔ یہاں باطل پوری منصوبہ بندی، عالمی اتحاد، جدید اسلحہ اور ہمہ گیر میڈیا کے ساتھ آیا—مگر ٹھہر نہ سکا۔ اس لیے کہ باطل کی عمر طاقت سے نہیں، حق کی عدم موجودگی سے ہوتی ہے؛ اور جہاں حق استقامت کے ساتھ کھڑا ہو جائے، وہاں باطل کے لیے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔

جو باقی رہتا ہے، وہ وقتی شور نہیں ہوتا۔

جو باقی رہتا ہے، وہ حق پر استقامت ہوتی ہے جو آزمائش میں نکھر کر سامنے آتی ہے۔

جو باقی رہتا ہے، وہ قوم کی بیداری ہوتی ہے جو دھمکیوں میں بھی اپنے راستے کو پہچان لیتی ہے۔

اور جو باقی رہتا ہے، وہ قیادت کی بصیرت ہوتی ہے جو جذبات کے سیلاب میں بھی سمت نہیں کھوتی۔

اسی لیے ہر یلغار، چاہے وہ فوجی ہو، معاشی ہو یا فکری—آخرکار تاریخ کے ملبے میں دفن ہو جاتی ہے۔ شور ختم ہو جاتا ہے، منصوبے بکھر جاتے ہیں، اتحاد ٹوٹ جاتے ہیں، مگر حق خاموشی کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

اور تاریخ، جب بھی پلٹ کر دیکھتی ہے، ایک ہی جملہ لکھتی ہے: باطل آیا تھا، بہت شور کے ساتھ اور پھر ہمیشہ کی طرح مٹ گیا۔

پروردگارِا ہمیں حق کو پہچاننے کی بصیرت عطا فرما اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔

باطل کے شور میں ہمارے دلوں کو یقین کا سکون نصیب کر، اور خوف کے اندھیروں میں ہمیں ایمان کا چراغ عطا فرما۔

اے خدا! مظلوموں کی استقامت کو دوام دے، اہلِ حق کی صفوں میں اتحاد پیدا فرما، اور قیادت کو حکمت و بصیرت کے ساتھ محفوظ رکھ۔

ہمیں فریب کے غبار سے بچا، اور تاریخ کے اس موڑ پر حق کے گواہوں میں شمار فرما۔

بے شک تو نے وعدہ فرمایا ہے، اور تیرا وعدہ سچا ہے:اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

اے ربِ کریم! ہمیں اسی وعدے پر ایمان کے ساتھ جینے اور اسی یقین کے ساتھ مرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha